دھوپ رکھ دی تھی مقدر نے سرہانے میرے

بشیر فاروقی

دھوپ رکھ دی تھی مقدر نے سرہانے میرے

بشیر فاروقی

MORE BYبشیر فاروقی

    دھوپ رکھ دی تھی مقدر نے سرہانے میرے

    عمر بھر آگ میں جلتے رہے شانے میرے

    میں ترے نام کا عامل ہوں وہ اب جان گئے

    حادثے اب نہیں ڈھونڈھیں گے ٹھکانے میرے

    چاند سی ان کی وہ خوش رنگ قبا وہ دستار

    ان کی درویشی پہ قربان خزانے میرے

    موج رنگ آئی کچھ اس طور کہ دل جھوم اٹھا

    ہوش گم کر دئے سرمست حنا نے میرے

    پھر کوئی لمس مرے جسم میں شعلے بھر دے

    پھر سے یوں ہو کہ پلٹ آئیں زمانے میرے

    جا تجھے چھوڑ دیا اے غم دوراں میں نے

    ورنہ خالی نہیں جاتے ہیں نشانے میرے

    ایسا لگتا تھا کہ لوٹ آئے ہیں گزرے ہوئے دن

    مل گئے تھے مجھے کچھ دوست پرانے میرے

    زندگی دیکھ لی میں نے تری دنیا کہ جہاں

    وقت نے چھین لئے خواب سہانے میرے

    اب میں ساحل پہ نہیں میں ہوں تہہ آب رواں

    شہر در شہر ہیں ہونٹوں پہ فسانے میرے

    گر پڑا سیل حوادث مرے قدموں پہ بشیرؔ

    ہاتھ تھامے جو بزرگوں کی دعا نے میرے

    مآخذ
    • کتاب : Dairon ke darmiyan (Pg. 23)
    • Author : Bashiir Faruqi
    • مطبع : Bashiir Faruqi (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY