دھوپ سے جسم بچائے رکھنا کتنا مشکل ہے

نسیم سحر

دھوپ سے جسم بچائے رکھنا کتنا مشکل ہے

نسیم سحر

MORE BYنسیم سحر

    دھوپ سے جسم بچائے رکھنا کتنا مشکل ہے

    خود کو سائے سائے رکھنا کتنا مشکل ہے

    ظاہر میں جو رستہ سیدھا لگتا ہو اس پر

    اپنے پیر جمائے رکھنا کتنا مشکل ہے

    آوازوں کی بھیڑ میں اتنے شور شرابے میں

    اپنی بھی اک رائے رکھنا کتنا مشکل ہے

    ہم سے پوچھو ہم دل کو سمجھایا کرتے تھے

    وحشی کو سمجھائے رکھنا کتنا مشکل ہے

    صرف پرندے کو معلوم ہے تیز ہواؤں میں

    اپنے پر پھیلائے رکھنا کتنا مشکل ہے

    آج کی رات ہوائیں بے حد سرکش لگتی ہیں

    آج چراغ جلائے رکھنا کتنا مشکل ہے

    دوستیوں اور دشمنیوں کی زد میں رہ کے نسیمؔ

    اپنا آپ بچائے رکھنا کتنا مشکل ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے