دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیں

مختار صدیقی

دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیں

مختار صدیقی

MORE BYمختار صدیقی

    دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیں

    کچھ تجلی کی حضوری کا بھی یارا کر لیں

    آج کا دن بھی یوں ہی بیت گیا شام ہوئی

    اور اک رات کا کٹنا بھی گوارا کر لیں

    جن خیالوں کے الٹ پھیر میں الجھیں سانسیں

    ان میں کچھ اور بھی سانسوں کا اضافہ کر لیں

    جن ملالوں سے لہو دل کا بنا ہے آنسو

    ان کے آنکھوں سے برسنے کا نظارا کر لیں

    احتیاطوں کی گزر گاہیں ہوئی ہیں سنسان

    اب چھپایا ہوا ہر گھاؤ ہویدا کر لیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY