دھیان میں کون درندہ ہے جو بیدار ہوا

عقیل عباس

دھیان میں کون درندہ ہے جو بیدار ہوا

عقیل عباس

MORE BYعقیل عباس

    دھیان میں کون درندہ ہے جو بیدار ہوا

    میں کسی بو کی جلن پا کے خبردار ہوا

    باغ کی سمت سے آتی ہے ہوا سہمی ہوئی

    کون اس حبس کے موسم میں صداکار ہوا

    اس جزیرے کی طرف سوچ سمجھ کر جانا

    جو ترے موج میں آنے سے نمودار ہوا

    تم کو لگتا ہے کہ آسان ہے دنیا داری

    کار دنیا میں پٹا ہوں تو وفادار ہوا

    اس بدن پر بھی مرا کام دکھائی دے گا

    اور وہ کام کہ جیسے کوئی شہکار ہوا

    اس نے ہر سوچ کی زنبیل الٹ کر رکھ دی

    اور میں خواب دکھانے کا سزاوار ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY