دیدۂ حیراں نے تماشا کیا

مومن خاں مومن

دیدۂ حیراں نے تماشا کیا

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    دیدۂ حیراں نے تماشا کیا

    دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا

    ضبط فغاں گو کہ اثر تھا کیا

    حوصلہ کیا کیا نہ کیا کیا کیا

    آنکھ نہ لگنے سے شب احباب نے

    آنکھ کے لگ جانے کا چرچا کیا

    مر گئے اس کے لب جاں بخش پر

    ہم نے علاج آپ ہی اپنا کیا

    بجھ گئی اک آہ میں شمع حیات

    مجھ کو دم سرد نے ٹھنڈا کیا

    غیر عیادت سے برا مانتے

    قتل کیا آن کے اچھا کیا

    ان سے پری وش کو نہ دیکھے کوئی

    مجھ کو مری شرم نے رسوا کیا

    زندگیٔ ہجر بھی اک موت تھی

    مرگ نے کیا کار مسیحا کیا

    پان میں یہ رنگ کہاں آپ نے

    آپ مرے خون کا دعویٰ کیا

    جور کا شکوہ نہ کروں ظلم ہے

    راز مرا صبر نے افشا کیا

    کچھ بھی بن آتی نہیں کیا کیجیے

    اس کے بگڑنے نے کچھ ایسا کیا

    جائے تھی تیری مرے دل میں سو ہے

    غیر سے کیوں شکوۂ بے جا کیا

    رحم فلک اور مرے حال پر

    تو نے کرم اے ستم آرا کیا

    سچ ہی سہی آپ کا پیماں ولے

    مرگ نے کب وعدۂ فردا کیا

    دعویٔ تکلیف سے جلاد نے

    روز جزا قتل پھر اپنا کیا

    مرگ نے ہجراں میں چھپایا ہے منہ

    لو منہ اسی پردہ نشیں کا کیا

    دشمن مومنؔ ہی رہے بت سدا

    مجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    دیدۂ حیراں نے تماشا کیا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY