دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے

مظفر وارثی

دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے

مظفر وارثی

MORE BYمظفر وارثی

    دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے

    ظرف مردہ ہو تو سچائی کہاں سے آئے

    پیار تعمیر ہو جب بغض کی بنیادوں پر

    ملتی نظروں میں شناسائی کہاں سے آئے

    گم ہیں رنگوں میں خد و خال بھی تصویروں کے

    پس پردہ کا تماشائی کہاں سے آئے

    میری ہر سوچ کے رستے میں کھڑا ہے کوئی

    آئینہ خانے میں تنہائی کہاں سے آئے

    میری آواز خموشی نے مجھے لوٹا دی

    مجھ میں اب جرأت گویائی کہاں سے آئے

    کوئی بھی دیکھنا چاہے نہ کسی کو زندہ

    خوں کے پیاسوں میں مسیحائی کہاں سے آئے

    اس قدر شوق در آمد ہے مظفرؔ ہم کو

    سوچتے رہتے ہیں رسوائی کہاں سے آئے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے