دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا

فراق گورکھپوری

دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    دیدار میں اک طرفہ دیدار نظر آیا

    ہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیا

    چھالوں کو بیاباں بھی گلزار نظر آیا

    جب چھیڑ پر آمادہ ہر خار نظر آیا

    صبح شب ہجراں کی وہ چاک گریبانی

    اک عالم نیرنگی ہر تار نظر آیا

    ہو صبر کہ بیتابی امید کہ مایوسی

    نیرنگ محبت بھی بیکار نظر آیا

    جب چشم سیہ تیری تھی چھائی ہوئی دل پر

    اس ملک کا ہر خطہ تاتار نظر آیا

    تو نے بھی تو دیکھی تھی وہ جاتی ہوئی دنیا

    کیا آخری لمحوں میں بیمار نظر آیا

    غش کھا کے گرے موسیٰ اللہ ری مایوسی

    ہلکا سا وہ پردہ بھی دیوار نظر آیا

    ذرہ ہو کہ قطرہ ہو خم خانہ ہستی میں

    مخمور نظر آیا سرشار نظر آیا

    کیا کچھ نہ ہوا غم سے کیا کچھ نہ کیا غم نے

    اور یوں تو ہوا جو کچھ بے کار نظر آیا

    اے عشق قسم تجھ کو معمورۂ عالم کی

    کوئی غم فرقت میں غم خوار نظر آیا

    شب کٹ گئی فرقت کی دیکھا نہ فراقؔ آخر

    طول غم ہجراں بھی بے کار نظر آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY