دیوانوں کو منزل کا پتا یاد نہیں ہے

وحید اختر

دیوانوں کو منزل کا پتا یاد نہیں ہے

وحید اختر

MORE BYوحید اختر

    دیوانوں کو منزل کا پتا یاد نہیں ہے

    جب سے ترا نقش کف پا یاد نہیں ہے

    افسردگی عشق کے کھلتے نہیں اسباب

    کیا بات بھلا بیٹھے ہیں کیا یاد نہیں ہے

    ہم دل زدگاں جیتے ہیں یادوں کے سہارے

    ہاں مٹ گئے جس پر وہ ادا یاد نہیں ہے

    گھر اپنا تو بھولی ہی تھی آشفتگی دل

    خود رفتہ کو اب در بھی ترا یاد نہیں ہے

    لیتے ہیں ترا نام ہی یوں جاگتے سوتے

    جیسے کہ ہمیں اپنا خدا یاد نہیں ہے

    یہ ایک ہی احسان غم دوست ہے کیا کم

    بے مہری دوراں کی جفا یاد نہیں ہے

    بے برسے گزر جاتے ہیں امڈے ہوئے بادل

    جیسے انہیں میرا ہی پتا یاد نہیں ہے

    اس بار وحیدؔ آپ کی آنکھیں نہیں برسیں

    کیا جھومتی زلفوں کی گھٹا یاد نہیں ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دیوانوں کو منزل کا پتا یاد نہیں ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY