دکھلائے نہ کیوں حشر کا عالم شب فرقت
دکھلائے نہ کیوں حشر کا عالم شب فرقت
کچھ روز قیامت سے نہیں کم شب فرقت
برپا نہ ہو کیوں شیون و ماتم شب فرقت
ہے حق میں مرے روز محرم شب فرقت
کرتا ہے فلک دیکھ کے حالت مری زاری
یہ چرخ سے گرتی نہیں شبنم شب فرقت
گھبرا نہ بہت سا وہ اب آتا ہے اب آتا
دیتا ہوں دل زار کو یوں دم شب فرقت
ہیں مختلف الفاظ مگر ایک ہیں معنی
زنداں ملک الموت جہنم شب فرقت
موجود ہو جس میں کہ ہر اک طرح کی تعذیب
سب کہتے ہیں دوزخ اسے اور ہم شب فرقت
دل میں مرے مر جاتے ہیں ارمان ہزاروں
برپا نہ ہوں کیوں نعرۂ ماتم شب فرقت
دنیا میں سدا رنج سے راحت ہے مؤخر
اور وصل کی شب پر ہے مقدم شب فرقت
سینہ مرا کر دیتی ہے افگار ستمگر
سہراب ہوں میں اور ہے رستم شب فرقت
کیا پوچھتا ہے کون ترے درپئے جاں ہے
اے مونس جاں اور مری ہمدم شب فرقت
اے سحرؔ نہیں جان کی اب خیر تمہاری
آتی رہی گر یوں ہی یہ پیہم شب فرقت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.