دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ

مومن خاں مومن

دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ

    پالا پڑا ہے ہم کو خدا کس بلا کے ساتھ

    کب تک نبھائیے بت ناآشنا کے ساتھ

    کیجے وفا کہاں تلک اس بے وفا کے ساتھ

    یاد ہوائے یار نے کیا کیا نہ گل کھلائے

    آئی چمن سے نکہت گل جب صبا کے ساتھ

    مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی

    آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

    ہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھی

    ہر بار چونک پڑتے ہیں آواز پا کے ساتھ

    یا رب وصال یار میں کیونکر ہو زندگی

    نکلی ہی جان جاتی ہے ہر ہر ادا کے ساتھ

    اللہ رے سوز آتش غم بعد مرگ بھی

    اٹھتے ہیں میری خاک سے شعلے ہوا کے ساتھ

    سو زندگی نثار کروں ایسی موت پر

    یوں روئے زار زار تو اہل عزا کے ساتھ

    ہر دم عرق عرق نگہ بے حجاب ہے

    کس نے نگاہ گرم سے دیکھا حیا کے ساتھ

    مرنے کے بعد بھی وہی آوارگی رہی

    افسوس جاں گئی نفس نارسا کے ساتھ

    دست جنوں نے میرا گریباں سمجھ لیا

    الجھا ہے ان سے شوخ کے بند قبا کے ساتھ

    آتے ہی تیرے چل دیئے سب ورنہ یاس کا

    کیسا ہجوم تھا دل حسرت فزا کے ساتھ

    میں کینے سے بھی خوش ہوں کہ سب یہ تو کہتے ہیں

    اس فتنہ گر کو لاگ ہے اس مبتلا کے ساتھ

    اللہ ری گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کر

    مومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ

    مومنؔ وہی غزل پڑھو شب جس سے بزم میں

    آتی تھی لب پہ جان زہ و حبذا کے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY