دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں

داغؔ دہلوی

دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں

داغؔ دہلوی

MORE BY داغؔ دہلوی

    دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں

    جانے والی چیز کا غم کیا کریں

    ہم نے مر کر ہجر میں پائی شفا

    ایسے اچھوں کا وہ ماتم کیا کریں

    اپنے ہی غم سے نہیں ملتی نجات

    اس بنا پر فکر عالم کیا کریں

    ایک ساغر پر ہے اپنی زندگی

    رفتہ رفتہ اس سے بھی کم کیا کریں

    کر چکے سب اپنی اپنی حکمتیں

    دم نکلتا ہو تو ہمدم کیا کریں

    دل نے سیکھا شیوۂ بیگانگی

    ایسے نامحرم کو محرم کیا کریں

    معرکہ ہے آج حسن و عشق کا

    دیکھیے وہ کیا کریں ہم کیا کریں

    آئینہ ہے اور وہ ہیں دیکھیے

    فیصلہ دونوں یہ باہم کیا کریں

    آدمی ہونا بہت دشوار ہے

    پھر فرشتے حرص آدم کیا کریں

    تند خو ہے کب سنے وہ دل کی بات

    اور بھی برہم کو برہم کیا کریں

    حیدرآباد اور لنگر یاد ہے

    اب کے دلی میں محرم کیا کریں

    کہتے ہیں اہل سفارش مجھ سے داغؔ

    تیری قسمت ہے بری ہم کیا کریں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نور جہاں

    نور جہاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY