دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کا

مردان صفی

دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کا

مردان صفی

MORE BYمردان صفی

    دل ہے روشن کہ ہے دل میں رخ روشن ان کا

    زیر فانوس بدن شمع ہے جوبن ان کا

    دید ان کی ہے وصال ان کا تصور ان کا

    جان ان کی ہے جگر ان کا ہے تن من ان کا

    ہیں وہ کاشانۂ دل میں کبھی آنکھوں میں کبھی

    خانہ تن ہے مرا گھر بھی اور آنگن ان کا

    ہے تصور جو انہیں کا تو وہ ہیں پیش نگاہ

    ہو خیال ان کے سوا گر تو ہے رہزن ان کا

    ہیں تمہیں میں وہ تم اپنے کو تو دیکھو ہو کون

    جن کو کہتے ہو کہ ہے عرش پہ مسکن ان کا

    جان ان کی ہے ہر اک جان کہاں پر وہ نہیں

    دونوں عالم میں یہی رمز ہے مزمن ان کا

    بیٹھے بیٹھے وہ کیا کرتے ہیں ہر گل پہ نظر

    دل عاشق ہے مگر سیر کا گلشن ان کا

    وہ ہمارے ہیں ہم ان کے ہیں انہیں کا یہ ظہور

    جان ان کی ہے یہی جان بھی تن من ان کا

    آ کے گھر میں مرے مرداںؔ نہ وہ جانے پائیں

    تا قیامت نہ چھٹے ہاتھ سے دامن ان کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے