دل کے اندر درد آنکھوں میں نمی بن جائیے

سلیم احمد

دل کے اندر درد آنکھوں میں نمی بن جائیے

سلیم احمد

MORE BYسلیم احمد

    INTERESTING FACT

    . اس غزل کا دوسرا شعر سلیم احمد کی لوح مزار پر بھی درج ہے

    دل کے اندر درد آنکھوں میں نمی بن جائیے

    اس طرح ملیے کہ جزو زندگی بن جائیے

    اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا

    روشنی کے ساتھ رہیے روشنی بن جائیے

    جس طرح دریا بجھا سکتے نہیں صحرا کی پیاس

    اپنے اندر ایک ایسی تشنگی بن جائیے

    دیوتا بننے کی حسرت میں معلق ہو گئے

    اب ذرا نیچے اتریے آدمی بن جائیے

    عقل کل بن کر تو دنیا کی حقیقت دیکھ لی

    دل یہ کہتا ہے کہ اب دیوانگی بن جائیے

    جس طرح خالی انگوٹھی کو نگینہ چاہئے

    عالم امکاں میں اک ایسی کمی بن جائیے

    عالم کثرت نہاں ہے اس اکائی میں سلیمؔ

    خود میں خود کو جمع کیجے اور کئی بن جائیے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    سلیم احمد

    سلیم احمد

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دل کے اندر درد آنکھوں میں نمی بن جائیے نعمان شوق

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY