دل کی آواز پہ بیعت بھی تو ہو سکتی ہے

یونس تحسین

دل کی آواز پہ بیعت بھی تو ہو سکتی ہے

یونس تحسین

MORE BYیونس تحسین

    دل کی آواز پہ بیعت بھی تو ہو سکتی ہے

    تم اگر چاہو محبت بھی تو ہو سکتی ہے

    میں جسے سمجھا ہوں آوارہ ہوا کی دستک

    تیرے آنے کی بشارت بھی تو ہو سکتی ہے

    زندگی تیرے تصور سے ہی مشروط نہیں

    تیری یادوں سے ہلاکت بھی تو ہو سکتی ہے

    آخری بار تجھے دیکھنا حسرت ہی نہیں

    مرنے والے کی ضرورت بھی تو ہو سکتی ہے

    کب ضروری ہے کہ ہم قیس کی سنت پہ چلیں

    مذہب عشق میں بدعت بھی تو ہو سکتی ہے

    اس لئے دیکھتا رہتا ہوں مسلسل تجھ کو

    آنکھ محروم بصارت بھی تو ہو سکتی ہے

    لفظ شعروں میں جو ڈھلتے نہیں تحسینؔ مرے

    سوچ کے رزق میں قلت بھی تو ہو سکتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY