دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

حبیب جالب

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

حبیب جالب

MORE BY حبیب جالب

    دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

    ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

    بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیں

    لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں

    ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں

    دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

    جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے

    آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

    وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا

    اس آوارہ دیوانے کو جالبؔ جالبؔ کہتے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    منی بیگم

    منی بیگم

    رئیس خان

    رئیس خان

    نامعلوم

    نامعلوم

    مہدی حسن

    مہدی حسن

    مقبول احمد صابری

    مقبول احمد صابری

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY