دل کی دیوانہ طبیعت کو مصیبت نہ بنا

یونس تحسین

دل کی دیوانہ طبیعت کو مصیبت نہ بنا

یونس تحسین

MORE BYیونس تحسین

    دل کی دیوانہ طبیعت کو مصیبت نہ بنا

    تجھ سے یارانہ ہے یارانہ محبت نہ بنا

    میں تجھے دل کی سناتا ہوں مجھے تو دل کی

    اس سہولت کو مری جان اذیت نہ بنا

    ہم کو لے دے کے تعلق ہی بچا ہے تیرا

    اس کو مشکوک نہ کر باعث تہمت نہ بنا

    ایک دیوار نے رشتوں کا تقدس توڑا

    بھائی روکا تھا تجھے گھر میں یہ لعنت نہ بنا

    نیند کو طاق پہ دھر اور دیا پہلو میں

    گریۂ آخر شب میں کوئی دقت نہ بنا

    بیٹیاں رزق میں برکت کا سبب ہوتی ہیں

    گھر کی رحمت کو غلط سوچ سے زحمت نہ بنا

    عکس کا ہونا ہے مشروط ترے ہونے سے

    خود کو پہچان مگر عکس کو حیرت نہ بنا

    ہو بہ ہو اس کی اداؤں کی ادا لازم ہے

    یار کی سنت مسعود کو بدعت نہ بنا

    اختلافات ہیں انسان کا خاصہ تحسینؔ

    بحث کرنی ہے تو کر بحث کو نفرت نہ بنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY