دل کی کہانیوں کو نیا موڑ کیوں دیا

شکیل شمسی

دل کی کہانیوں کو نیا موڑ کیوں دیا

شکیل شمسی

MORE BY شکیل شمسی

    دل کی کہانیوں کو نیا موڑ کیوں دیا

    رشتوں کے ٹوٹے شیشے کو پھر جوڑ کیوں دیا

    دہلیز پر جلا کے سر شام اک چراغ

    دروازہ تم نے گھر کا کھلا چھوڑ کیوں دیا

    گلدان میں سجے ہوئے نقلی گلاب پر

    اک بد حواس تتلی نے دم توڑ کیوں دیا

    طوفاں سے لڑ رہا تھا وہ ساحل کے واسطے

    ساحل ملا تو ناؤ کا رخ موڑ کیوں دیا

    یہ دیکھیے وہ خوش ہے بہت مجھ کو چھوڑ کر

    مت پوچھئے کہ اس نے مجھے چھوڑ کیوں دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY