دل کو بچا کے لائے تھے سارے جہاں سے ہم

جامی ردولوی

دل کو بچا کے لائے تھے سارے جہاں سے ہم

جامی ردولوی

MORE BYجامی ردولوی

    دل کو بچا کے لائے تھے سارے جہاں سے ہم

    آخر میں چوٹ کھا گئے اک مہرباں سے ہم

    بے فکریوں کا راج ہو رسہ کشی کے ساتھ

    وہ مدرسہ حیات کا لائیں کہاں سے ہم

    اب گرد بھی ہماری نہ پائیں گے قافلے

    آگے نکل گئے ہیں بہت کارواں سے ہم

    اپنا شمار ہی نہیں پھولوں میں باغ کے

    ایسے میں کیا امید کریں باغباں سے ہم

    جامیؔ وطن میں اپنے مسافر تھی زندگی

    لندن میں بن بلائے ہوئے میہماں سے ہم

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY