دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے

ہوش ترمذی

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے

ہوش ترمذی

MORE BYہوش ترمذی

    دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے

    اب تو یہ درد کی صورت ہی دوا ہو جیسے

    ہر نفس حلقۂ زنجیر نظر آتا ہے

    زندگی جرم تمنا کی سزا ہو جیسے

    کان بجتے ہیں سکوت شب تنہائی میں

    وہ خموشی ہے کہ اک حشر بپا ہو جیسے

    اب تو دیوانوں سے یوں بچ کے گزر جاتی ہے

    بوئے گل بھی ترے دامن کی ہوا ہو جیسے

    کہتے کہتے غم دل عمر گزاری لیکن

    پھر بھی احساس یہ ہے کچھ نہ کہا ہو جیسے

    ہوشؔ بیتابئ احساس کا عالم توبہ

    مجھ میں چھپ کر وہ مجھے دیکھ رہا ہو جیسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY