دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میں

آغا حجو شرف

دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میں

آغا حجو شرف

MORE BY آغا حجو شرف

    دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میں

    جب وہ بیٹھیں ہیں آ کے پہلو میں

    ڈبڈباتے ہی آنکھیں پتھرائی

    کیا ہی حسرت بھری تھی آنسو میں

    سرکشی کی جو بوئے گیسو نے

    چھپ رہا مشک ناف آہو میں

    زندگی بھر کریں گے اس کی تلاش

    چل بسیں گے اسی تکابو میں

    درد دل روئی سے نہ سکوانا

    آگ ہے اس طرف کے پہلو میں

    کون کہتا ہے خال مشکیں ہے

    دل ہے کسریٰ کا طاق ابرو میں

    بزم میں ان کی جب گئے ہیں ہم

    عطر بھر بھر دیا ہے چلو میں

    بلبلوں میں ہمارا دل ہوگا

    روح ہوگی گلوں کی خوشبو میں

    دل تو تھا اختیار سے باہر

    اب جگر بھی نہیں ہے قابو میں

    بحر غم میں مریں گے ڈوب کے ہم

    قبر اک دن بنے گی ٹاپو میں

    خوں رلاتی ہیں انکھڑیاں تیری

    ایک ہی ہیں یہ دونوں جادو میں

    حوریں پاسنگ کی کریں گی ہوس

    مل وہ بیٹھیں گے جس ترازو میں

    کس کو غش آ گیا جو چھڑکو گے

    کیوں بھرا ہے گلاب چلو میں

    عالم وجد دل کو رہتا ہے

    مست ہیں نعرہ ہائے یاہو میں

    اے شرفؔ جب مزا ہے رونے کا

    نکلیں لخت جگر بھی آنسو میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY