دل کو پھر امید گرمانے لگی

جگر بریلوی

دل کو پھر امید گرمانے لگی

جگر بریلوی

MORE BYجگر بریلوی

    دل کو پھر امید گرمانے لگی

    پھر مجھے دنیا نظر آنے لگی

    دل پہ ڈالی ہے کسی نے پھر نگاہ

    سانس پھر آنے لگی جانے لگی

    نقش پھر جمنے لگا تدبیر کا

    عقل پھر کچھ دل کو سمجھانے لگی

    نزع میں آنے لگی پھر کس کی یاد

    آرزوئے زیست تڑپانے لگی

    ہو چلا ہے پھر کسی کا انتظار

    کھنچ کے جان آنکھوں میں پھر آنے لگی

    رنج بھی آخر کو راحت بن گیا

    شب ہجوم غم سے نیند آنے لگی

    پھر وہی بیتابیٔ دل ہے جگرؔ

    پھر کسی کی یاد تڑپانے لگی

    مأخذ :
    • کتاب : Partav-e-ilhaam (Pg. 42)
    • Author : Jigar Barelvi
    • مطبع : Publisher Nizami Book Agency, Budaun (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY