دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی

حیدر علی آتش

دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی

حیدر علی آتش

MORE BYحیدر علی آتش

    دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی

    صبح تک شام سے یاہو کے سوا بات نہ تھی

    التجا تجھ سے کب اے قبلۂ حاجات نہ تھی

    تیری درگاہ میں کس روز مناجات نہ تھی

    اب ملاقات ہوئی ہے تو ملاقات رہے

    نہ ملاقات تھی جب تک کہ ملاقات نہ تھی

    غنچۂ گل کو نہ ہنسنا تھا تری صورت سے

    چھوٹے سے منہ کی سزاوار بڑی بات نہ تھی

    ابتدا سے تجھے موجود سمجھتا تھا میں

    مرے تیرے کبھی پردے کی ملاقات نہ تھی

    اے نسیم سحری بہر اسیران قفس

    تحفہ تر نکہت گل سے کوئی سوغات نہ تھی

    ان دنوں عشق رلاتا تھا ہمیں صورت ابر

    کون سی فصل تھی وہ جس میں کہ برسات نہ تھی

    کیا کہوں اس کے جو مجھ پر کرم پنہاں تھے

    ظاہری یار سے ہر چند ملاقات نہ تھی

    اپنے باندھے ہوئے گاتی تجھے دیکھا پھڑکا

    دل ربا شے تھی مری جان تری گات نہ تھی

    اک میں مل گئے اے شاہ سوار اہل نیاز

    ناز معشوق تھا تو سن کی ترے لات نہ تھی

    لب کے بوسہ کا ہے انکار تعجب اے یار

    پھیرے سائل سے جو منہ کو وہ تری ذات نہ تھی

    کمر یار تھی ازبسکہ نہایت نازک

    سوجھتی بندش مضموں کی کوئی گھات نہ تھی

    ان دنوں ہوتا تھا تو گھر میں ہمارے شب باش

    روز روشن سے کم اے مہر لقا رات نہ تھی

    بے شعوروں نے نہ سمجھا تو نہ سمجھا آتشؔ

    نکتہ سنجوں کو لطیفہ تھی تری بات نہ تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY