دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو

وصی شاہ

دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو

وصی شاہ

MORE BYوصی شاہ

    دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو

    میرے گزرے ہوئے سالوں سے پریشان نہ ہو

    میری آواز کی تلخی کو گوارہ کر لے

    میرے گستاخ سوالوں سے پریشان نہ ہو

    میں نے مانا تری آنکھیں نہیں کھلتی ہیں مگر

    دن نکلنے دے اجالوں سے پریشان نہ ہو

    اپنی زلفوں میں اترتی ہوئی چاندی کو چھپا

    میرے بکھرے ہوئے بالوں سے پریشان نہ ہو

    اے نئی دوست میں بھرپور ہوا ہوں تیرا

    میرے ماضی کے حوالوں سے پریشان نہ ہو

    دیکھ یوں دور نہ ہو مجھ کو لگا لے دل سے

    تو مری روح کے چھالوں سے پریشان نہ ہو

    خود کو ویران نہ کر میرے لیے جان مری

    ان پریشان خیالوں سے پریشان نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے