دل میں ہو آس تو ہر کام سنبھل سکتا ہے

حسن نعیم

دل میں ہو آس تو ہر کام سنبھل سکتا ہے

حسن نعیم

MORE BYحسن نعیم

    دل میں ہو آس تو ہر کام سنبھل سکتا ہے

    ہر اندھیرے میں دیا خواب کا جل سکتا ہے

    عشق وہ آگ جو برسوں میں سلگتی ہے کبھی

    دل وہ پتھر جو کسی آن پگھل سکتا ہے

    ہر نراشا ہے لیے ہاتھ میں آشا بندھن

    کون جنجال سے دنیا کے نکل سکتا ہے

    جس نے ساجن کے لیے اپنے نگر کو چھوڑا

    سر اٹھا کر وہ کسی شہر میں چل سکتا ہے

    میرا محبوب ہے وہ شخص جو چاہے تو نعیمؔ

    سوکھی ڈالی کو بھی گلشن میں بدل سکتا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Hasan Naim (Pg. 113)
    • Author : Ahmad Kafeel
    • مطبع : Qaumi Council Baraye Farogh-e-urdu Zaban (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY