دل میں جب شعلۂ احساس مچل جاتا ہے

گلشن بیابانی

دل میں جب شعلۂ احساس مچل جاتا ہے

گلشن بیابانی

MORE BYگلشن بیابانی

    دل میں جب شعلۂ احساس مچل جاتا ہے

    موم کی طرح سے پتھر بھی پگھل جاتا ہے

    کیسے کہہ دوں کہ یہ سورج ہے اجالوں کا امیں

    شام ہوتے ہی اندھیروں میں جو ڈھل جاتا ہے

    چند قطروں کی مرے دوست حقیقت کیا ہے

    ظرف والا تو سمندر بھی نگل جاتا ہے

    کیا ضروری ہے کہ شعلوں کو ہوا دی جائے

    جس کو جلنا ہے وہ پھولوں سے بھی جل جاتا ہے

    یہ سیاست کا ہے بازار یہاں پر یارو

    کھوٹا سکہ بھی کھرے داموں میں چل جاتا ہے

    وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں چہرے گلشنؔ

    لوگ کہتے ہیں کہ آئینہ بدل جاتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY