دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

MORE BY جگر مراد آبادی

    دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

    کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

    دنیائے دل تباہ کئے جا رہا ہوں میں

    صرف نگاہ و آہ کئے جا رہا ہوں میں

    فرد عمل سیاہ کئے جا رہا ہوں میں

    رحمت کو بے پناہ کئے جا رہا ہوں میں

    ایسی بھی اک نگاہ کئے جا رہا ہوں میں

    ذروں کو مہر و ماہ کئے جا رہا ہوں میں

    مجھ سے لگے ہیں عشق کی عظمت کو چار چاند

    خود حسن کو گواہ کئے جا رہا ہوں میں

    دفتر ہے ایک معنئ بے لفظ و صوت کا

    سادہ سی جو نگاہ کئے جا رہا ہوں میں

    آگے قدم بڑھائیں جنہیں سوجھتا نہیں

    روشن چراغ راہ کئے جا رہا ہوں میں

    معصومئ جمال کو بھی جن پہ رشک ہے

    ایسے بھی کچھ گناہ کئے جا رہا ہوں میں

    تنقید حسن مصلحت خاص عشق ہے

    یہ جرم گاہ گاہ کئے جا رہا ہوں میں

    اٹھتی نہیں ہے آنکھ مگر اس کے روبرو

    نادیدہ اک نگاہ کئے جا رہا ہوں میں

    گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز

    کانٹوں سے بھی نباہ کئے جا رہا ہوں میں

    یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر

    جیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں

    مجھ سے ادا ہوا ہے جگرؔ جستجو کا حق

    ہر ذرے کو گواہ کئے جا رہا ہوں میں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites