دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کے

رسا رامپوری

دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کے

رسا رامپوری

MORE BYرسا رامپوری

    دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کے

    سیکھو ابھی سلیقے کچھ روز دلبری کے

    فرقت میں اشک حسرت ہم کیا بہا رہیں ہیں

    تقدیر رو رہی ہے پردے میں بیکسی کے

    آئے اگر قیامت تو دھجیاں اڑا دیں

    پھرتے ہیں جستجو میں فتنے تری گلی کے

    دے کر مجھے تسلی بے چین کر رہے ہو

    ہنستے ہو وعدہ کر کے قربان اس ہنسی کے

    یہ حضرت رسا بھی دیوانے ہو گئے ہیں

    چکر لگا رہے ہیں اک شوخ کی گلی کے

    مآخذ:

    • کتاب : intekhaabe-e-sukhan(jild-duum) (Pg. 98)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY