دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطر خاموش

ذوالفقار عادل

دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطر خاموش

ذوالفقار عادل

MORE BYذوالفقار عادل

    دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطر خاموش

    جیسے تصویر میں بیٹھا ہو مصور خاموش

    دل کی خاموشی سے گھبرا کے اٹھاتا ہوں نظر

    ایک آواز سی آتی ہے مسافر خاموش

    اس تعارف کا نہ آغاز نہ انجام کوئی

    کر دیا ایک خموشی نے مجھے پھر خاموش

    کچھ نہ سن کر بھی تو کہنا ہے کہ ہاں سنتے ہیں

    کچھ نہ کہہ کر بھی تو ہونا ہے بالآخر خاموش

    ڈوب سکتی ہے یہ کشتی تری سرگوشی سے

    اے مرے خواب مرے حامی و ناصر خاموش

    چیونٹیاں رینگ رہی ہیں کہیں اندر عادلؔ

    ہم ہیں دیوار کے مانند بظاہر خاموش

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY