دل مرا رقصاں ہے جب سے عقل اس شورش میں ہے

اشک الماس

دل مرا رقصاں ہے جب سے عقل اس شورش میں ہے

اشک الماس

MORE BYاشک الماس

    دل مرا رقصاں ہے جب سے عقل اس شورش میں ہے

    لرزش پا آسماں یا یہ جہاں لرزش میں ہے

    آج سے پہلے زمیں کی چال تو ایسی نہ تھی

    تم ذرا رفتار دیکھو کس قدر گردش میں ہے

    ٹھیک ہے تجھ کو ملا ہے مجھ کو بھٹکانے کا کام

    یہ مگر کیا تو تو ہر دم دعوت لغزش میں ہے

    کس قدر پھر ایک ہو جاویں زمین و آسماں

    ہم زمین و آسماں والے اسی سازش میں ہیں

    منتظر ہیں تشنہ لب یہ کوثر و تسنیم کا

    ایک زنجیر کشش بھی ساقئ مہوش میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY