دل تو ہے ایک مگر درد کے خانے ہیں بہت

رضیہ فصیح احمد

دل تو ہے ایک مگر درد کے خانے ہیں بہت

رضیہ فصیح احمد

MORE BYرضیہ فصیح احمد

    دل تو ہے ایک مگر درد کے خانے ہیں بہت

    اس لیے مجھ کو بھی رونے کے بہانے ہیں بہت

    اب نئے دوست بنانے کی تو ہمت ہی نہیں

    دل سے نزدیک ہیں جو دوست پرانے ہیں بہت

    دل سکوں پائے جہاں ایسے بسیرے کتنے

    یوں تو کہیے کہ مسافر کو ٹھکانے ہیں بہت

    در کبھی خواب کا کھلتا ہے عذابوں کی طرف

    یہ نہ کہیے کہ سبھی خواب سہانے ہیں بہت

    کون سی بات کریں کس سے بچائیں پہلو

    جو کبھی ختم نہ ہوں ایسے فسانے ہیں بہت

    رضیہؔ کیا کام ہمیں گنج گراں مایہ سے

    ہم سے لوگوں کے لیے شعر خزانے ہیں بہت

    مأخذ :
    • کتاب : Urdu Gazal ka Magribi Daricha (Pg. 92)
    • Author : Dr. Jawaz Jafri
    • مطبع : Kitab Saray, Lahore (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY