دلوں کا حال وہ بے اعتبار کیا جانے

مشتاق نقوی

دلوں کا حال وہ بے اعتبار کیا جانے

مشتاق نقوی

MORE BYمشتاق نقوی

    دلوں کا حال وہ بے اعتبار کیا جانے

    جسے نہ پیار ملا ہو وہ پیار کیا جانے

    ادا سے آئی چمن میں ادا سے لوٹ گئی

    گلوں پہ بیت گئی کیا بہار کیا جانے

    نہ کوئی خواب ہے آنکھوں میں اور نہ بے خوابی

    کہاں رکی ہے شب انتظار کیا جانے

    اسے بھلائے ہوئے مدتیں ہوئیں لیکن

    یہ کون چھوتا ہے دل بار بار کیا جانے

    پھر ایک بار چلو اس گلی میں ہو آئیں

    وہ مل ہی جائے سر رہ گزار کیا جانے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY