دلوں کے آئنہ دھندلے پڑے ہیں

فضیل جعفری

دلوں کے آئنہ دھندلے پڑے ہیں

فضیل جعفری

MORE BYفضیل جعفری

    دلوں کے آئنہ دھندلے پڑے ہیں

    بہت کم لوگ خود کو جانتے ہیں

    خزاں کے خشک پتوں کو نہ چھیڑو

    تھکے ماندے مسافر سو رہے ہیں

    ہماری غم گساری میں شب غم

    چراغ آہستہ آہستہ جلے ہیں

    نشاں پاتا نہیں کوئی کسی کا

    سبھی اک دوسرے کو ڈھونڈتے ہیں

    بس اک موج ہوائے غم ہے کافی

    ارادے کیا گھروندے ریت کے ہیں

    خدا دل کا نگر آباد رکھے

    ہزاروں طرح کے غم پل رہے ہیں

    شب مہتاب یادیں گل رخوں کی

    سفینے موج خوں میں تیرتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY