دلوں میں خاک سی اڑتی ہے کیا نہ جانے کیا

راجیندر منچندا بانی

دلوں میں خاک سی اڑتی ہے کیا نہ جانے کیا

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    دلچسپ معلومات

    خلیل الرحمٰن آعظمی کی یاد میں

    دلوں میں خاک سی اڑتی ہے کیا نہ جانے کیا

    تلاش کرتی ہے پل پل ہوا نہ جانے کیا

    ذرا سا کان لگا کے کبھی سنو گئے رات

    کہیں سے آتی ہے گم صم صدا نہ جانے کیا

    مسافروں کے دلوں میں عجب خزانے تھے

    زیاں سفر تھا مگر راستہ نہ جانے کیا

    وہ کہہ رہا تھا نہ جھانکوں گا آج صبح اس میں

    مجھے دکھائے یہی آئینہ نہ جانے کیا

    دعا کے پھول کی خوشبو سا پھیلنے والا

    وہ خود میں ڈھونڈھتا تھا گمشدہ نہ جانے کیا

    نہیں ہے کس کی نظر میں افق کوئی نہ کوئی

    اس آنکھ میں تھی کوئی شے جدا نہ جانے کیا

    تمام شہر میں گاڑھے دھویں کا منظر ہے

    لکھا ہوا تھا یہاں جا بہ جا نہ جانے کیا

    وہی بچھڑتے دلوں کی فضائے اشک آلود

    وہی سفر کہ پرانا نیا نہ جانے کیا

    نکل گیا ہے خلاؤں کی سمت اے بانیؔ

    نواح جاں سے گزرتا ہوا نہ جانے کیا

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 303)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے