دلوں میں خار لبوں پر گلہ ملے گا مجھے

نظمی سکندری آبادی

دلوں میں خار لبوں پر گلہ ملے گا مجھے

نظمی سکندری آبادی

MORE BYنظمی سکندری آبادی

    دلوں میں خار لبوں پر گلہ ملے گا مجھے

    خفا رہے گا زمانہ تو کیا ملے گا مجھے

    یہ کیا خبر تھی ملاقات ان سے ہوگی اگر

    نظر سے تا بہ نظر فاصلہ ملے گا مجھے

    طلسم تیرگئی شب کہیں تو ٹوٹے گا

    کوئی چراغ کہیں تو جلا ملے گا مجھے

    بہار باغ تمنا کوئی تو دیکھے گا

    کبھی تو دل میں کوئی جھانکتا ملے گا مجھے

    زمانہ ہوگا ترے ساتھ رہگزر میں جہاں

    مٹا مٹا سا ترا نقش پا ملے گا مجھے

    ڈریں گے لوگ وفا کے خیال سے نظمیؔ

    مری وفاؤں کا جس دن صلہ ملے گا مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY