دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تک

جعفر شیرازی

دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تک

جعفر شیرازی

MORE BYجعفر شیرازی

    دن دہکتی دھوپ نے مجھ کو جلایا دیر تک

    رات تنہائی میں کالا ابر برسا دیر تک

    تو یہ کہتا ہے کہ تو کل رات میرے ساتھ تھا

    میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے تجھ کو ڈھونڈا دیر تک

    پاس رکھ کر اجلے اجلے دودھ سے یادوں کے جسم

    دیر سے بیٹھا ہوں میں بیٹھا رہوں گا دیر تک

    پہلے تیری چاہتوں کے غم تھے اب فرقت کے دکھ

    مجھ پہ اب طاری رہے گا یہ بھی عرصہ دیر تک

    کون ٹھہرے آنے والے موسموں کے سامنے

    کون خالی رکھ سکے طاق تماشا دیر تک

    اب وہ باتیں اب وہ قصے کس طرح جعفرؔ بھلائیں

    ایسے صدموں کا اثر دل پر رہے گا دیر تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY