دن کے سینے پہ شام کا پتھر

عادل رضا منصوری

دن کے سینے پہ شام کا پتھر

عادل رضا منصوری

MORE BY عادل رضا منصوری

    دن کے سینے پہ شام کا پتھر

    ایک پتھر پہ دوسرا پتھر

    یہ سنا تھا کہ دیوتا ہے وہ

    میرے حق ہی میں کیوں ہوا پتھر

    دائرے بنتے اور مٹتے تھے

    جھیل میں جب کبھی گرا پتھر

    اب تو آباد ہے وہاں بستی

    اب کہاں تیرے نام کا پتھر

    ہو گئے منزلوں کے سب راہی

    دے رہا ہے کسے صدا پتھر

    سارے تارے زمیں پہ گر جاتے

    زور سے میں جو پھینکتا پتھر

    نام نے کام کر دکھایا ہے

    سب نے دیکھا ہے تیرتا پتھر

    تو اسے کیا اٹھائے گا عادلؔ

    میرؔ تک سے نہ اٹھ سکا پتھر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY