دن میں بھی حسرت مہتاب لیے پھرتے ہیں

فراغ روہوی

دن میں بھی حسرت مہتاب لیے پھرتے ہیں

فراغ روہوی

MORE BYفراغ روہوی

    دن میں بھی حسرت مہتاب لیے پھرتے ہیں

    ہائے کیا لوگ ہیں کیا خواب لیے پھرتے ہیں

    ہم کہاں منظر شاداب لیے پھرتے ہیں

    در بہ در دیدۂ خوں ناب لیے پھرتے ہیں

    وہ قیامت سے تو پہلے نہیں ملنے والا

    کس لیے پھر دل بے تاب لیے پھرتے ہیں

    ہم سے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا جاتا

    دشت وحشت میں بھی آداب لیے پھرتے ہیں

    سلطنت ہاتھ سے جاتی رہی لیکن ہم لوگ

    چند بخشے ہوئے القاب لیے پھرتے ہیں

    ایک دن ہونا ہے مٹی کا نوالہ پھر بھی

    جسم پر اطلس و کمخواب لیے پھرتے ہیں

    ہم نوائی کہاں حاصل ہے کسی کی مجھ کو

    ہم نواؤں کو تو احباب لیے پھرتے ہیں

    کس لیے لوگ ہمیں سر پہ بٹھائیں گے فراغ

    ہم کہاں کے پر سرخاب لیے پھرتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Ke Rang (Pg. 256)
    • Author : Akram Naqqash, Sohil Akhtar
    • مطبع : Aflaak Publications, Gulbarga (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY