دیا نہیں ہے مجھے چھپ چھپا کے رونے تک

عاصم واسطی

دیا نہیں ہے مجھے چھپ چھپا کے رونے تک

عاصم واسطی

MORE BYعاصم واسطی

    دیا نہیں ہے مجھے چھپ چھپا کے رونے تک

    نظر میں اس نے رکھے میرے گھر کے کونے تک

    میں کیا بتاؤں کہ بیتے ہیں کیا کڑے موسم

    شدید کرب سے گزرا ہوں سنگ ہونے تک

    وہ روشنی کی طرح تیز تیز چلتا ہے

    گزر نہ جائے کہیں آنکھ میں سمونے تک

    کوئی کرے گا نہیں دیکھ بھال پھولوں کی

    سب اہتمام بہاراں ہے بیج بونے تک

    تباہ تو نہیں کرتا تمام نیند مری

    مجھے یہ درد جگاتا ہے صرف سونے تک

    کہاں وہ مسلک پاکیزگی رہا عاصمؔ

    ہے اب تو مشق وضو دست و پا کو دھونے تک

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY