دیوں سے وعدے وہ کر رہی تھی عجیب رت تھی

احمد سجاد بابر

دیوں سے وعدے وہ کر رہی تھی عجیب رت تھی

احمد سجاد بابر

MORE BYاحمد سجاد بابر

    دیوں سے وعدے وہ کر رہی تھی عجیب رت تھی

    ہوا چراغوں سے ڈر رہی تھی عجیب رت تھی

    بڑی حویلی کے گیٹ آگے دریدہ دامن

    غریب لڑکی جو مر رہی تھی عجیب رت تھی

    ٹھٹھرتی شب میں وداعی سیٹی کی گونج سن کر

    یہ آنکھ پانی سے بھر رہی تھی عجیب رت تھی

    ضعیف ماں کے لئے تھا مشکل کہ گھر سے جاتی

    اتار گٹھری وہ دھر رہی تھی عجیب رت تھی

    خزاں کے موسم میں شام بھی تھی اداس بابرؔ

    وہ بن کے پت جھڑ بکھر رہی تھی عجیب رت تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY