دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں

فارغ بخاری

دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں

فارغ بخاری

MORE BYفارغ بخاری

    دو گھڑی بیٹھے تھے زلف عنبریں کی چھاؤں میں

    چبھ گیا کانٹا دل حسرت زدہ کے پاؤں میں

    کم نہیں ہیں جب کہ شہروں میں بھی کچھ ویرانیاں

    کس توقع پر کوئی جائے گا اب صحراؤں میں

    کچی کلیاں پکی فصلیں سر چھپائیں گی کہاں

    آگ شہروں کی لپک کر آ رہی ہے گاؤں میں

    زخم نظارا ہیں جسموں کی برہنہ ٹہنیاں

    ایسے پت جھڑ میں کھلیں گے پھول کیا آشاؤں میں

    کیا کہوں طول شب غم پل میں صدیاں ڈھل گئیں

    وقت یوں گزرا کہ جیسے آبلے ہوں پاؤں میں

    زندگی میں ایسی کچھ طغیانیاں آتی رہیں

    بہہ گئیں ہیں عمر بھر کی نیکیاں دریاؤں میں

    جلتے موسم میں کوئی فارغ نظر آتا نہیں

    ڈوبتا جاتا ہے ہر اک پیڑ اپنی چھاؤں میں

    مآخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 399)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY