دو جہاں کے حسن کا ارمان آدھا رہ گیا

اسرار اکبر آبادی

دو جہاں کے حسن کا ارمان آدھا رہ گیا

اسرار اکبر آبادی

MORE BYاسرار اکبر آبادی

    دو جہاں کے حسن کا ارمان آدھا رہ گیا

    اس صدی کے شور میں انسان آدھا رہ گیا

    ہر عبادت گاہ سے اونچی ہیں مل کی چمنیاں

    شہر میں ہر شخص کا ایمان آدھا رہ گیا

    میں تو گھبرایا ہوا تھا یہ بہت اچھا ہوا

    یاد ان کی آ گئی طوفان آدھا رہ گیا

    پھول مہکے رنگ چھلکے جھیل پر ہم تم ملے

    بات ہے یہ خواب کی رومان آدھا رہ گیا

    تم کو آنا تھا نہیں آئے کہو میں کیا کروں

    آسماں پر چاند سا مہمان آدھا رہ گیا

    کیوں ہے اتنی تیز رو بتلا مری عمر رواں

    زندگی کی راہ کا سامان آدھا رہ گیا

    مختصر سا لکھ دیا اسرارؔ نے ان کو جواب

    خط ملا پر آپ کا احسان آدھا رہ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے