دو جھکی آنکھوں کا پہنچا جب مرے دل کو سلام

فرحت شہزاد

دو جھکی آنکھوں کا پہنچا جب مرے دل کو سلام

فرحت شہزاد

MORE BYفرحت شہزاد

    دو جھکی آنکھوں کا پہنچا جب مرے دل کو سلام

    یوں لگا ہے دوپہر میں جیسے در آئی ہو شام

    اس کے ہونٹوں کا کیا جب ذکر میرے شعر نے

    ہر سماعت کے لبوں سے جا لگا لبریز جام

    جیسے سجدے میں کوئی گر کر نہ اٹھے دیر تک

    یوں گری آنکھوں پہ پلکیں سن کے اک کافر کا نام

    دکھ کسی کا ہو اسے دھڑکن میں اپنی سینچ لے

    کس نے سونپا ہے مرے دل کو یہ پاگل پن کا کام

    اب تو جی میں ہے کہ ہر دکھ پر لگاؤں قہقہہ

    ہو گئی ہیں شہر میں آنسو بھری آنکھیں تو عام

    حرف جیسے ہو گئے سارے منافق ایک دم

    کون سے لفظوں میں سمجھاؤں تمہیں دل کا پیام

    اس قدر جلدی بھی کیا شہزادؔ تھی آخر بتا

    کیا بگڑتا ساتھ گر تو اور چلتا چند گام

    مأخذ :
    • کتاب : Aaina Jhuta hai (Pg. 49)
    • Author : Farhat Shahzad
    • مطبع : Al-hamd Publication (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے