دوست جتنے بھی تھے مزار میں ہیں

کاوش بدری

دوست جتنے بھی تھے مزار میں ہیں

کاوش بدری

MORE BYکاوش بدری

    دلچسپ معلومات

    Vol 268, May 2003

    دوست جتنے بھی تھے مزار میں ہیں

    غالباً میرے انتظار میں ہیں

    وہ نہ ہوتے مرا وجود نہ تھا

    میں نہ ہوتا وہ کس شمار میں ہیں

    شاخ ادراک میں جو کانٹے ہیں

    پھول بننے کے انتظار میں ہیں

    کیا سبب ہے کہ ایک موسم میں

    کچھ خزاں میں ہیں کچھ بہار میں ہیں

    ایک شاعر بنا خدائے سخن

    جو رسول سخن تھے غار میں ہیں

    خار سمجھو نہ تم انہیں ہرگز

    سانپ کے دانت گل کے ہار میں ہیں

    شمر و فرعون کب ہوئے مرحوم

    ان کے اوصاف رشتے دار میں ہیں

    سب کے سب کاوش فرشتہ خصال

    عیب جتنے ہیں خاکسار میں ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Shabkhoon (Urdu Monthly) (Pg. 1572)
    • Author : Shamsur Rahman Faruqi
    • مطبع : Shabkhoon Po. Box No.13, 313 rani Mandi Allahabad (June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II)
    • اشاعت : June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY