دوستوں کی عطا ہے خاموشی

فردوس گیاوی

دوستوں کی عطا ہے خاموشی

فردوس گیاوی

MORE BYفردوس گیاوی

    دوستوں کی عطا ہے خاموشی

    اب مرا مدعا ہے خاموشی

    علم کی ابتدا ہے ہنگامہ

    علم کی انتہا ہے خاموشی

    درد کے شہر میں ہے گھر میرا

    میرے گھر کا پتا ہے خاموشی

    اس طرف میں ہوں اس طرف وہ ہیں

    بیچ کا فاصلہ ہے خاموشی

    بھیگتی رات کی ہتھیلی پر

    مثل رنگ حنا ہے خاموشی

    دوستو خود تلک پہنچنے کا

    مختصر راستہ ہے خاموشی

    کاش سمجھیں زبان والے بھی

    بے زباں کی دعا ہے خاموشی

    مرنے والے نے یہ کہا فردوسؔ

    زندگی کا صلہ ہے خاموشی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY