دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا

مضطر خیرآبادی

دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    دعا سے کچھ نہ ہوا التجا سے کچھ نہ ہوا

    بتوں کے عشق میں یاد خدا سے کچھ نہ ہوا

    میں ایک کیا ہوں سبھی با وفا ہیں شاکئ جور

    تم ایک کیا ہو کسی بے وفا سے کچھ نہ ہوا

    بھری تو تھی مگر اپنے اثر کو لا نہ سکی

    گئی تو تھی مگر آہ رسا سے کچھ نہ ہوا

    وہ آرزو ہوں کہ جس آرزو کی کچھ نہ چلی

    وہ مدعا ہوں کہ جس مدعا سے کچھ نہ ہوا

    یہی سہی کہ خوشی سے ملے ملے تو سہی

    یہی سہی کہ ہماری دعا سے کچھ نہ ہوا

    وہ ایک ہم کہ جو چاہا کیا وصال کی رات

    وہ ایک تم کہ تمہاری حیا سے کچھ نہ ہوا

    انہیں بلا کے تصور میں ہم ملے مضطرؔ

    ہوس تو ہو گئی پوری بلا سے کچھ نہ ہوا

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 131)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY