دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے

گوہر ہوشیارپوری

دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے

گوہر ہوشیارپوری

MORE BYگوہر ہوشیارپوری

    دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے

    یہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھے

    وہ ایک شخص برائی پہ تل گیا تو چلو

    سوال یہ ہے کہ ہم بھی کہاں فرشتے تھے

    اور اب نہ آنکھ نہ آنسو نہ دھڑکنیں دل میں

    تمہی کہو کہ یہ دریا کبھی اترتے تھے

    جدائیوں کی گھڑی نقش نقش بولتی ہے

    وہ برف بار ہوا تھی، وہ دانت بجتے تھے

    اب ان کی گونج یہاں تک سنائی دیتی ہے

    وہ قہقہے جو تری انجمن میں لگتے تھے

    وہ ایک دن کہ محبت کا دن کہیں جس کو

    کہ آگ تھی نہ تپش بس سلگتے جاتے تھے

    کہاں وہ ضبط کے دعوے کہاں یہ ہم گوہرؔ

    کہ ٹوٹتے تھے نہ پھر ٹوٹ کر بکھرتے تھے

    مأخذ :
    • کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 290)
    • Author : Ahmad Nadeem Qasmi
    • مطبع : 4 Maklood Road, Lahore (Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23)
    • اشاعت : Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY