دنیا خیال و خواب ہے میری نگاہ میں

شیخ ظہور الدین حاتم

دنیا خیال و خواب ہے میری نگاہ میں

شیخ ظہور الدین حاتم

MORE BYشیخ ظہور الدین حاتم

    دنیا خیال و خواب ہے میری نگاہ میں

    آباد سب خراب ہے میری نگاہ میں

    بہتی پھرے ہے عمر تلاطم میں دہر کے

    انسان جوں حباب ہے میری نگاہ میں

    میں بحر غم کو دیکھ لیا نا خدا برو

    کشتی نہ ہو پہ آب ہے میری نگاہ میں

    چھوٹا ہوں جب سے شیخ تعین کی قید سے

    ہر ذرہ آفتاب ہے میری نگاہ میں

    تم کیف میں شراب کے کہتے ہو جس کو دل

    بھونا ہوا کباب ہے میری نگاہ میں

    کیوں کھینچتے ہو تیغ کمر سے چہ فائدہ

    مدت سے اس کی آب ہے میری نگاہ میں

    حاتمؔ تو اس جہان کی لذات پر نہ بھول

    یہ پائے در رکاب ہے میری نگاہ میں

    مأخذ :
    • کتاب : diivaan-zaada (Pg. 237)
    • مطبع : dillii kitaab ghar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY