دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوں

شکیل بدایونی

دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوں

شکیل بدایونی

MORE BY شکیل بدایونی

    دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوں

    چھیڑو نہ مجھے میں کوئی دیوانہ نہیں ہوں

    اس کثرت غم پر بھی مجھے حسرت غم ہے

    جو بھر کے چھلک جائے وہ پیمانہ نہیں ہوں

    روداد غم عشق ہے تازہ مرے دم سے

    عنوان ہر افسانہ ہوں افسانہ نہیں ہوں

    الزام جنوں دیں نہ مجھے اہل محبت

    میں خود یہ سمجھتا ہوں کہ دیوانہ نہیں ہوں

    میں قائل خوددارئ الفت سہی لیکن

    آداب محبت سے تو بیگانہ نہیں ہوں

    ہے برق سر طور سے دل شعلہ بداماں

    شمع سر محفل ہوں میں پروانہ نہیں ہوں

    ہے گردش ساغر مری تقدیر کا چکر

    محتاج طواف در مے خانہ نہیں ہوں

    کانٹوں سے گزر جاتا ہوں دامن کو بچا کر

    پھولوں کی سیاست سے میں بیگانہ نہیں ہوں

    لذت کش نظارہ شکیلؔ اپنی نظر ہے

    محروم جمال رخ جانانہ نہیں ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY