دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

اکبر الہ آبادی

دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

اکبر الہ آبادی

MORE BYاکبر الہ آبادی

    دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

    بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں

    زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی

    ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں

    اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث

    سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں

    افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت

    غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں

    وہ گل ہوں خزاں نے جسے برباد کیا ہے

    الجھوں کسی دامن سے میں وہ خار نہیں ہوں

    یا رب مجھے محفوظ رکھ اس بت کے ستم سے

    میں اس کی عنایت کا طلب گار نہیں ہوں

    گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میں

    بت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں

    افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔ

    کافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    کندن لال سہگل

    کندن لال سہگل

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY