دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

حبیب جالب

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

حبیب جالب

MORE BY حبیب جالب

    دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

    دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

    خامشی پر ہیں لوگ زیر عتاب

    اور ہم نے تو بات بھی کی ہے

    مطمئن ہے ضمیر تو اپنا

    بات ساری ضمیر ہی کی ہے

    اپنی تو داستاں ہے بس اتنی

    غم اٹھائے ہیں شاعری کی ہے

    اب نظر میں نہیں ہے ایک ہی پھول

    فکر ہم کو کلی کلی کی ہے

    پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو

    جستجو آج بھی اسی کی ہے

    جب مہ و مہر بجھ گئے جالبؔ

    ہم نے اشکوں سے روشنی کی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-habib jaalib (Pg. 272)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY